Wednesday, 21 April 2021

ابھی نہیں کبھی پھر تجھ سے رابطہ کروں گی

 ابھی نہیں کبھی پھر تجھ سے رابطہ کروں گی

میں اپنے آپ سے کچھ روز مشورہ کروں گی

بھٹک رہی ہوں تو اس میں بھی میری مرضی ہے

تِرے فریب سے نکلوں گی، راستہ کروں گی

نصیب اپنا جگاتے ہیں جاگنے والے

میں تیری یاد مناؤں گی رت جگا کروں گی

تجھے گنواؤں گی لیکن میں مسکرا کر دوست

میں اب کہ ٹوٹ بھی جاؤں تو حوصلہ کروں گی

کنول جدائی نے پتھرا دیا ہے آنکھوں کو

میں کوئی خواب تراشوں گی آئینہ کروں گی


کنول ملک

No comments:

Post a Comment