ابھی نہیں کبھی پھر تجھ سے رابطہ کروں گی
میں اپنے آپ سے کچھ روز مشورہ کروں گی
بھٹک رہی ہوں تو اس میں بھی میری مرضی ہے
تِرے فریب سے نکلوں گی، راستہ کروں گی
نصیب اپنا جگاتے ہیں جاگنے والے
میں تیری یاد مناؤں گی رت جگا کروں گی
تجھے گنواؤں گی لیکن میں مسکرا کر دوست
میں اب کہ ٹوٹ بھی جاؤں تو حوصلہ کروں گی
کنول جدائی نے پتھرا دیا ہے آنکھوں کو
میں کوئی خواب تراشوں گی آئینہ کروں گی
کنول ملک
No comments:
Post a Comment