Sunday, 13 September 2020

فطرت عشق گنہ گار ہوئی جاتی ہے

فطرت عشق گنہ گار ہوئی جاتی ہے
فکر دنیا بھی غم یار ہوئی جاتی ہے
کتنا نازک ہے خدا رکھے محبت کا مزاج
اب تسلی بھی دل آزار ہوئی جاتی ہے
جب سے چھینی ہے تِری یاد نے نیند آنکھوں کی
دل کی جو حس ہے وہ بیدار ہوئی جاتی ہے
آہ، پابندیٔ آدابِ محبت، توبہ
ٹھنڈی ہر سانس گناہگار ہوئی جاتی ہے
چھو لیا عرش کو منصور کی انگڑائی نے
صاف گوئی رسن و دار ہوئی جاتی ہے
ہر تجلی ہے تِرے سامنے شرمندہ سی
چاندنی سایۂ دیوار ہوئی جاتی ہے
شکریہ شوخیٔ حسن پس پردہ کا سراج
آنکھ بے دیکھے گناہگار ہوئی جاتی ہے

سراج لکھنوی​

No comments:

Post a Comment