اے چرخ کاش آگ لگے تیری چال میں
اک روح تھی ہر آرزوئے پائمال میں
ہر زخم دل ہے عہد محبت کی یادگار
جی چاہتا ہے دیر لگے اندمال میں
وہ بھیڑ ہے کہ ڈھونڈھنا تیرا تو درکنار
خود کھویا جا رہا ہوں ہجوم خیال میں
کچھ اور مانگنا مرے مشرب میں کفر ہے
لا اپنا ہاتھ دے مرے دست سوال میں
ان آنسوؤں میں رنگ تبسم بھی گھول دے
ظالم کوئی مزہ بھی تو آئے ملال میں
ہاں تم کو بھول جانے کی کوشش کریں گے ہم
تم سے بھی ہو سکے تو نہ آنا خیال میں
تہمت جنوں کی مجھ کو گوارہ مگر سراج
وہ عشق کیا رہے جو حد اعتدال میں
سراج لکھنوی
No comments:
Post a Comment