Wednesday, 8 September 2021

اے چرخ کاش آگ لگے تیری چال میں

اے چرخ کاش آگ لگے تیری چال میں 

اک روح تھی ہر آرزوئے پائمال میں 

ہر زخم دل ہے عہد محبت کی یادگار 

جی چاہتا ہے دیر لگے اندمال میں 

وہ بھیڑ ہے کہ ڈھونڈھنا تیرا تو درکنار 

خود کھویا جا رہا ہوں ہجوم خیال میں 

کچھ اور مانگنا مرے مشرب میں کفر ہے 

لا اپنا ہاتھ دے مرے دست سوال میں 

ان آنسوؤں میں رنگ تبسم بھی گھول دے 

ظالم کوئی مزہ بھی تو آئے ملال میں 

ہاں تم کو بھول جانے کی کوشش کریں گے ہم 

تم سے بھی ہو سکے تو نہ آنا خیال میں 

تہمت جنوں کی مجھ کو گوارہ مگر سراج

وہ عشق کیا رہے جو حد اعتدال میں 


سراج لکھنوی

No comments:

Post a Comment