ہو گی ہماری قدر ہنرور کے شہر میں
ہم بیچتے ہیں آئینہ پتھر کے شہر میں
بازار گرم ہو گیا خوف و ہراس کا
کچھ باز آ گئے ہیں کبوتر کے شہر میں
نمرودیت کا سحر مٹانے کے واسطے
اک بت شکن تو چاہئے آزر کے شہر میں
اہل قلم ہیں گویا مصاحب بنے ہوئے
”اتنا سکوت اور سخنور کے شہر میں“
ہم لٹ گئے ہیں، اس کا نہیں ہے ملال کچھ
ہے فخر ہم لٹے بھی تو یاور کے شہر میں
حشمت سے کہہ دو کام لے عقلِ سلیم سے
ہمدرد ڈھونڈتا ہے تونگر کے شہر میں
حشمت علی انصاری
No comments:
Post a Comment