Wednesday, 8 September 2021

ہو گی ہماری قدر ہنرور کے شہر میں

 ہو گی ہماری قدر ہنرور کے شہر میں

ہم بیچتے ہیں آئینہ پتھر کے شہر میں

بازار گرم ہو گیا خوف و ہراس کا

کچھ باز آ گئے ہیں کبوتر کے شہر میں

نمرودیت کا سحر مٹانے کے واسطے

اک بت شکن تو چاہئے آزر کے شہر میں

اہل قلم ہیں گویا مصاحب بنے ہوئے

”اتنا سکوت اور سخنور کے شہر میں“

ہم لٹ گئے ہیں، اس کا نہیں ہے ملال کچھ

ہے فخر ہم لٹے بھی تو یاور کے شہر میں

حشمت سے کہہ دو کام لے عقلِ سلیم سے

ہمدرد ڈھونڈتا ہے تونگر کے شہر میں


حشمت علی انصاری

No comments:

Post a Comment