خراب محبت ہوں نادار ہو کر
خریدی ہے جنت گنہگار ہو کر
تِرے جلوۂ حسن سے چار ہو کر
نظر رہ گئی جیسے بے کار ہو کر
یہ شُہرے ہیں کس کی مسیحائیوں کے
یہ مانا کہ دشوار راہِ عدم ہے
پہونچ جائیں گے کوچۂ یار ہو کر
بھلا کیا مجھے کوئی پامال کرتا
زمانہ چلا تیری رفتار ہو کر
سکوں بخش ہے چارہ گر کی تسلی
اب اچھے تو کیا ہوں گے بیمار ہو کر
نہ پوچھو محبت کی جوہر شناسی
کہ خود بک گئے ہم خریدار ہو کر
حباب لب جُو بنیں دونوں آنکھیں
نظر رہ گئی غرقِ دیدار ہو کر
وہ خود ڈھونڈ لے گا سراج آ کے مجھ کو
میں کھویا ہوں جس کا طلب گار ہو کر
سراج لکھنوی
No comments:
Post a Comment