اٹھ اے بلوچ نوجواں
سپیدہ دم ہوا عیاں
بڑھا چلا وہ کارواں
یہ کہہ رہا ہے سارباں
نہیں یہ خواب کا سماں
تُو کارواں کے ساتھ چل
بڑھا کے قوتِ عمل
نہ ہو جہاں میں مضمحل
کہ کاہلی میں ہے خلل
یہ قید و بندِ جاں گسل
نکل تو ان کو توڑ کر
سبو و جام پھوڑ کر
نشاط و عیش چھوڑ کر
دلوں کو دل سے جوڑ کر
حوادثوں کو موڑ کر
تُو مردِ کار زار بن
شجاع و شہسوار بن
دلیر و جاں نثار بن
جوانِ کامگار بن
عدو پہ برق بار بن
جلا کے ان کو خاک کر
وطن کو ان سے پاک کر
قباۓ رسم چاک کر
نہ خوف کر نہ باک کر
لگا نشانہ تاک کر
یہ لات کو منات کو
بتانِ سومنات کو
یہ پیکرانِ ذات کو
یہ مغربی نبات کو
شہابِ ذات پات کو
وطن سے یوں نکال دے
تجھے نہ پھر وبال دے
نہ رنج دے ملال دے
خدا تجھے کمال دے
کہ ہر بشر یہ حال دے
بلوچ تیز گام ہے
ہمیشہ خوش خرام ہے
نہ بندِ قید و دام ہے
سکوں اسے حرام ہے
نصیر خوش کلام ہے
مرا اسے سلام ہے
میر گل خان نصیر
No comments:
Post a Comment