بولان
خشک و بے مہر چٹانوں کا تراشیدہ حصار
تپشِ مہر سے جھلسی ہوئی سنگین دیوار
جھریاں چہرۂ پر ہول پہ ادواروں کی
گھاؤ رِستے ہوئے، شمشیر سے قہاروں کی
پیرِ فرتوتِ کہن سالۂ زابل کی طرح
جیسے کوہ زاد سے رستم کے بگڑ جانے پر
اس نے زابل کے بلوچوں پہ نظر ڈالی تھی
اس طرح آج بھی بولان کی گھاٹی ہر دم
اسی مشتاق مگر تند نظر سے ہم کو دیکھتی ہے
کسی کوہ زاد سے ٹکرانے کو
میر گل خان نصیر
No comments:
Post a Comment