Saturday, 12 September 2020

خود ہی اچھالوں پتھر خود ہی سر پر لے لوں

خود ہی اچھالوں پتھر خود ہی سر پر لے لوں
جب چاہوں سونے موسم سے منظر لے لوں
آئینہ سے میرا قاتل مجھ کو پکارے
لاؤ میں بھی اپنے ہاتھوں پتھر لے لوں
جن رستوں نے جان و دل پر زخم سجائے
ان رستوں سے پوجنے والے پتھر لے لوں
میں شنکر سے زہر کا پیالہ چھین کے پی لوں
لہجے کے اس کرب میں سارے منظر لے لوں
مجھ سے کہے تو اپنے دل کی بات وہ ظالم
اس کے دل کا بوجھ میں اپنے سر پر لے لوں
کچھ لے دے کر بات بنا لوں اپنی کیفی 
کچھ دنیا کو ہنس کر دوں کچھ رو کر لے لوں

کیفی وجدانی

No comments:

Post a Comment