Thursday, 12 November 2020

حکم یہ سب کی سماعت میں اتارا جائے

 حکم یہ سب کی سماعت میں اتارا جائے

آپ کے نام سے اب مجھ کو پکارا جائے

دو قبیلوں میں چھڑے جنگ مجھے پانے کو

اور اس میں کوئی سردار بھی مارا جائے

اس نے تلوار اٹھائی تو دعا دی میں نے

وار خالی نہ کبھی دوست! تمہارا جائے

کشتیاں آج کنارے پہ کھڑی سوچتی ہیں

جانے کس سمت یہ دریا کا کنارا جائے

مرے چہرے پہ بکھر جائیں سبھی رنگِ شفق

مجھ کو اک شام کی دلہن سا سنوارا جائے

وصل کا دور تلک بھی کوئی امکان نہیں

اب تسلی سے کڑا ہجر گزارا جائے

ترے دیدار کی حسرت ہے وگرنہ یارب

کون چھوڑی ہوئی جنت میں دوبارا جائے


ناہید اختر بلوچ

No comments:

Post a Comment