حکم یہ سب کی سماعت میں اتارا جائے
آپ کے نام سے اب مجھ کو پکارا جائے
دو قبیلوں میں چھڑے جنگ مجھے پانے کو
اور اس میں کوئی سردار بھی مارا جائے
اس نے تلوار اٹھائی تو دعا دی میں نے
وار خالی نہ کبھی دوست! تمہارا جائے
کشتیاں آج کنارے پہ کھڑی سوچتی ہیں
جانے کس سمت یہ دریا کا کنارا جائے
مرے چہرے پہ بکھر جائیں سبھی رنگِ شفق
مجھ کو اک شام کی دلہن سا سنوارا جائے
وصل کا دور تلک بھی کوئی امکان نہیں
اب تسلی سے کڑا ہجر گزارا جائے
ترے دیدار کی حسرت ہے وگرنہ یارب
کون چھوڑی ہوئی جنت میں دوبارا جائے
ناہید اختر بلوچ
No comments:
Post a Comment