Tuesday, 11 January 2022

وصیت کوئی کچھ بھی کہے

 وصیت


کوئی کچھ بھی کہے

مگر میں نے لکھ دیا ہے

کہ مرنے کے بعد میری آنکھیں

اس نابینا فقیر کو لگائی جائیں

جو تمہارے شہر کی ہر گلی میں

صدا لگاتا ہے

میری آنکھیں

مرنے کے بعد بھی

تمہیں دیکھنا چاہتی ہیں


ناہید اختر بلوچ

No comments:

Post a Comment