حلقوم سے یہ زہر اتارا نہیں گیا
خود مر گیا ہوں میں مجھے مارا نہیں گیا
کتنی صدائیں دیں ہے مگر عین وقت پر
جس کو پکارنا تھا،۔ پکارا نہیں گیا
کھچ جائے نور آنکھ کا خدشہ نہ تھا مجھے
آنکھوں سے دور جان سے پیارا نہیں گیا
بس اچھی لگ رہی ہو زیادہ حسیں نہیں
بالوں کو اک زرا بھی سنوارا نہیں گیا
کس سمت تیرے لمس کی خوشبو نہیں ملی
کس سمت میری سوچ کا دھارا نہیں گیا
تصویر دونوں رخ سے دوبارہ نہیں بنی
اک نقش بار بار اُتارا نہیں گیا
احمد! مِرا وجود عناصر میں بٹ گیا
میں اس کے پاس سارے کا سارا نہیں گیا
فراز احمد علوی
No comments:
Post a Comment