خاموش ہیں خاموش مگر دیکھ رہے ہیں
ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
تاریک فضاؤں میں بھی جگنو کوئی چمکا
آج اپنی دعاؤں کا اثر دیکھ رہے ہیں
کیا بات ہے کیا راز بنے کیا ہو گیا آخر
کیوں آپ کو با دیدۂ تر دیکھ رہے ہیں
خود موت سے ٹکرانے کا جن کو ہے سلیقہ
مر کے بھی وہ اپنے کو امر دیکھ رہے ہیں
دیکھا نہ ہمیں مڑ کے بھی اک بار کسی نے
ہم شوق سے تا حدِ نظر دیکھ رہے ہیں
کیا جانیے اس راہ سے کب ان کا گزر ہو
مدت سے مگر راہگزر دیکھ رہے ہیں
بانو طاہرہ سعید
No comments:
Post a Comment