Monday, 8 May 2023

خاموش ہیں خاموش مگر دیکھ رہے ہیں

 خاموش ہیں خاموش مگر دیکھ رہے ہیں

ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں

تاریک فضاؤں میں بھی جگنو کوئی چمکا

آج اپنی دعاؤں کا اثر دیکھ رہے ہیں

کیا بات ہے کیا راز بنے کیا ہو گیا آخر

کیوں آپ کو با دیدۂ تر دیکھ رہے ہیں

خود موت سے ٹکرانے کا جن کو ہے سلیقہ

مر کے بھی وہ اپنے کو امر دیکھ رہے ہیں

دیکھا نہ ہمیں مڑ کے بھی اک بار کسی نے

ہم شوق سے تا حدِ نظر دیکھ رہے ہیں

کیا جانیے اس راہ سے کب ان کا گزر ہو

مدت سے مگر راہگزر دیکھ رہے ہیں


بانو طاہرہ سعید

No comments:

Post a Comment