Monday, 8 May 2023

کنواں بھی کھود لیا پھر بھی دل پریشاں ہے

کنواں بھی کھود لیا پھر بھی دل پریشاں ہے

اب اس علاقے سے بادل بہت گریزاں ہے

بدن دریدہ زمیں دور تک ہے پھیلی ہوئی

ہرا سا ایک شجر خود پہ کتنا نازاں ہے

کہیں سے کوئی بھی خوش کن خبر نہیں آئی

برا ہے وقت ابھی ہر خوشی گریزاں ہے

بیان درد و الم اب کوئی کرے کس سے

ہر ایک شخص کسی مسئلے میں غلطاں ہے

دکھا کے آدمی اور جانور کی تصویریں

یہ پوچھا بچی نے دونوں میں کون حیواں ہے

سفیدی اس پہ زباں سے نہ پھیر پائے گا

سیاہی دل کی تری آنکھ سے نمایاں ہے

جہاں میں پھیلے اندھیروں کا ہے یہ ڈر کیسا

دلوں میں شمع جب ایمان کی فروزاں ہے

کوئی خوشی بھی کہاں لگتی ہے خوشی کی طرح

بہ روز عید بھی اب کون کتنا ناداں ہے

ہو اہل ہوش یا دشت جنوں کا باشندہ

کسی کا آج سلامت نہیں گریباں ہے


امتیاز دانش ندوی

No comments:

Post a Comment