Monday, 8 May 2023

رہ نورد شوق ہوں اور رہگزر مشکل بھی ہے

 رہ نوردِ شوق ہوں اور رہگزر مشکل بھی ہے

مضطرب میں ہی نہیں ہوں مضطرب منزل بھی ہے

بچ کے آیا ہوں بھنور سے پھر بھی میں مشکل میں ہوں

کیونکہ میری گھات میں موجیں بھی تھیں ساحل بھی ہے

غم سے سینے کو مِرے چھلنی کیے دیتا ہے تُو

میرے سینے میں دھڑکتا دیکھ تیرا دل بھی ہے

دوستی کو دے رہے ہو فوقیت رشتوں پہ تم

دوستوں کے درمیاں ہی دیکھنا قاتل بھی ہے

حُسن سبقت لے گیا ہے چودھویں کے چاند پر

فرق اتنا ہے کہ، ان کے رُخ پہ کالا تل بھی ہے

نہ سمجھ پایا کبھی میں غم کی اس تفریق کو

حاصلِ غم ہی مِرا شاید غمِ حاصل بھی ہے


محمد عارف

No comments:

Post a Comment