Monday, 8 May 2023

حقیقت ہے اسے مانیں نہ مانیں گھٹتی بڑھتی ہیں

 حقیقت ہے اسے مانیں نہ مانیں گھٹتی بڑھتی ہیں

وہ جھوٹی ہوں کہ سچی داستانیں گھٹتی بڑھتی ہیں

کسی پہلو سے کوئی تیر آ کر چاٹ جائے گا

ہزاروں زاویے ہیں اور کمانیں گھٹتی بڑھتی ہیں

فلک گیری کی خواہش بال و پر کو راکھ کر دے گی

ہوس رانو! پرندوں کی اڑانیں گھٹتی بڑھتی ہیں

شکم سیری نے دسترخوان بچھوائے ہیں لوگوں سے

مذاق ذائقہ سمجھو زبانیں گھٹتی بڑھتی ہیں

بلندی اور پستی کا کوئی معیار طے کر لو

زمیں تنگ ہو رہی ہے اور چٹانیں گھٹتی بڑھتی ہیں

میں ان چاندی کے بازاروں پہ اپنے دانت کیا گاڑوں

چمکتی پھیکی پڑتی سب دوکانیں گھٹتی بڑھتی ہیں

شرر میں ایسی مٹی پر اساس فن نہیں رکھتا

رسانوں کا بھروسہ کیا رسانیں گھٹتی بڑھتی ہیں


کلیم حیدر شرر

No comments:

Post a Comment