Monday, 8 May 2023

وسعت شوق سے اک شمع جلائی نہ گئی

 وسعت شوق سے اک شمع جلائی نہ گئی

وہ بھی کیا بات تھی جو ہم سے بنائی نہ گئی

گر مخالف تھے مِرے لفظ تِرے ہر خط کے

ہم سے پر خط میں تِرے آگ لگائی نہ گئی

ڈور اوروں کی ہتھیلی میں رکھی ہے ہم نے

زندگی تیری پتنگ ہم سے اڑائی نہ گئی

تم گئے رونق دنیا بھی گئی ساتھ تِرے

ہم سے پھر بزم محبت بھی سجائی نہ گئی

دو پہر ساتھ رہی چھوڑ دیا پھر تنہا

وہ تو خوشبو تھی کہ واپس بھی بلائی نہ گئی

اس نے چہرے پہ کئی چہرے لگائے راسخ

اس سے پر دل کی کہانی تو چھپائی نہ گئی


راسخ شاہد

No comments:

Post a Comment