خوبصورت دوکان ہے تیری
ہر نمائش میں جان ہے تیری
یوں تو گونگی زبان ہے تیری
ہر تمنا جوان ہے تیری
کچھ تو کالا ہے دال میں شاید
لڑکھڑاتی زبان ہے تیری
پیٹ ٹکڑوں پہ پل ہی جاتا ہے
اب ضرورت مکان ہے تیری
چیر کر تیر نے رکھا دل کو
ٹیڑھی چِتوَن کمان ہے تیری
پھول سا دل لگے ہے کمہلانے
آگ جیسی زبان ہے تیری
دیوی ناگرانی
دیوی نانگرانی
No comments:
Post a Comment