گورِ غریباں
عبرت کا سماں گورِ غریباں سے عیاں ہے
ویرانۂ خاموش پہ بستی کا گماں ہے
خوابیدہ یہاں ہستئ گم کردہ نشاں ہے
گنجینۂ نایاب تہِ خاک نہاں ہے
جو زیست نہ رولے تھے گُہر دھول ہوئے ہیں
گُل چہرہ حسینوں کے یہیں پھول ہوئے ہیں
راحت کدۂ اہلِ جہاں ہے یہی منزل
ہنگامۂ ہستی سے سکوں ہے یہیں حاصل
آراستہ گوشہ میں محفل تہِ محفل
مہمانوں سے خالی کوئی جا ہو گی مشکل
کھنچ کھنچ کے چلے آتے ہیں سب کی یہ روش ہے
کیا جانیۓ اس خاک میں کس درجہ کشش ہے
آغوشِ زمیں میں خاک کے پُتلوں سے ہے آباد
ہر ذرہ ہے اک ہستئ برباد کی روداد
ہر لحظہ ہے تاراجِ اجل، عالمِ ایجاد
پیش آنی ہے انجام میں سب کو یہی افتاد
شیرازہ عناصر کا بکھر جاتا ہے آخر
پیمانہ ہے جو عمر بھر جاتا ہے آخر
مٹی کے کھلونوں کا ہے گھر شہرِ خموشاں
بربادوں سے آباد ہے یہ خطۂ ویراں
شاہوں کا تجمل ہے یہاں خاک بداماں
اسرار ہستئ فانی کے ہیں عریاں
مٹنے سے اماں کس کو تہِ چرخ بریں ہے
جو نقش ابھرتا ہے وہ پیوندِ زمیں ہے
غافل! یہ ہے انجامِ بقا بھر کے نظر دیکھ
اس منظرِ دلدوز کو بادیدۂ تر دیکھ
کیا دیکھتا ہے دہر کے جلوؤں کو ادھر دیکھ
تجھ کو اسی منزل کا ہے در پیش سفر دیکھ
اس جادۂ پُر پیچ میں رکھ پاؤں سنبھل کر
عمر اپنی یہاں وقف ہے حُسنِ عمل کر
برق دہلوی
منشی مہاراج بہادر ورما
No comments:
Post a Comment