جو اپنے پاس ہے ہتھیار، دھار تیز رکھو
بچاؤ تیز رکھو، اور مار تیز رکھو
خبر رساں بھی رکھو اور تیز قاصد بھی
جو صلح کی ہو ضرورت، سوار تیز رکھو
گیا زمانہ کہ ہلکے قرار ہوتے تھے
ہے شخص سامنے بھاری، قرار تیز رکھو
ہے اندھا، گونگا بھی، بہرا بھی حاکمِ دوراں
یہ جان لے ذرا دنیا، گُہار تیز رکھو
جو رینگتی نہیں جُوں تو یہ آزماؤ بھی
ہے لہجہ میٹھا تو تھوڑا سا کھار تیز رکھو
یہ زندگی کی بھی تصویر فلم جیسی ہے
لگاؤ چہرے پہ غازہ، نکھار تیز رکھو
یہی چلن ہے زمانے میں آج کل تشنہ
نفع بڑھا کے رکھو اور ادھار تیز رکھو
مسعود بیگ تشنہ
No comments:
Post a Comment