Tuesday, 11 May 2021

حصول رزق کے ارماں نکالتے گزری

 حصولِ رزق کے ارماں نکالتے گزری

حیات ایک سے سِکے ہی ڈالتے گزری

مسافرت کی صعوبت میں عمر بِیت گئی

بچی تو پاؤں سے کانٹے نکالتے گزری

ہوا نے جشن منائے وہ انتظار کی رات

چراغِ حجرۂ فُرقت سنبھالتے گزری

وہ شوخ لہر تو ہاتھوں سے لے گئی کشتی

پھر اس کے بعد سمندر کھنگالتے گزری

رسائی جس کی نہ تھی بیکراں سمندر تک

وہ موجِ نہر بھی چھینٹے اچھالتے گزری

یہی نہیں کہ ستارے تھے دسترس سے بعید

ذرا ذرا سی تمنا بھی ٹالتے گزری

تمام عمر تصور ردائے بخت سیاہ

مشقتوں کے لہو سے اُجالتے گزری


یعقوب تصور

No comments:

Post a Comment