Tuesday, 11 May 2021

پیشانئ حیات پہ کچھ ایسے بل پڑے

 پیشانئ حیات پہ کچھ ایسے بل پڑے

ہنسنے کو دل نے چاہا تو آنسو نکل پڑے

رہنے دو مت بجھاؤ مِرے آنسوؤں کی آگ

اس کشمکش میں آپ کا دامن نہ جل پڑے

ہنس ہنس کے پی رہا ہوں اسی طرح اشکِ غم

یوں دوسرا پیۓ، تو کلیجہ نکل پڑے

نشتر وہ اہلِ عشق بھی ہیں کتنے تنگ نظر

اُن کی زبان نام مِرا سن کے جل پڑے


نشتر خانقاہی

No comments:

Post a Comment