Saturday, 13 November 2021

آج دیوانے کو بے وجہ ستایا جائے

 آج دیوانے کو بے وجہ ستایا جائے

پھول تازہ کوئی بالوں میں لگایا جائے

میں سرِ عام پڑھوں کوئی غزل لوگوں میں

ان کی جانب ہی فقط میرا اشارہ جائے

پاس ہیں وہ دلِ بیمار دعا گو ہے عجب

درد جائے نہ مِرا، نہ ہی مسیحا جائے

فیصلہ حسبِ طبیعت یہ محبت نے کِیا

اک طرح غم ہو سلامت، غمِ دنیا جائے

روک لیں آج تو شاہین بلندیٔ خیال

آج سرور کے پروں کو چلو کترا جائے


سرور نیپالی

No comments:

Post a Comment