جب کبھی وہ یاس کا پیکر لگے
ساری دنیا درد کا منظر لگے
ہر طرف بکھرے سوالوں کا ہجوم
عرصۂ ہستی بھی اک محشر لگے
تذکرہ جب بھی اصولوں کا ہوا
آپ کے بدلے ہوئے تیور لگے
ریزہ ریزہ آنکھ میں چبھتا رہا
دل کے آئینے پہ جب پتھر لگے
بزم میں احوالِ زخمِ دل چھڑا
آپ کے دانتوں تلے کنکر لگے
رات، طوفانی ہوا، بارش کا زور
زندگی اک ناتواں چھپّر لگے
شہرِ جاناں کی عجب حالت ہوئی
اجنبی دیوار، بے حس در لگے
راہ میں دل کا دِیا لے کر چلیں
کیا پتا کس کس جگہ ٹھوکر لگے
اس کی بزمِ ناز کی اک ایک بات
آن انجم یاد کا محور لگے
مشتاق انجم
No comments:
Post a Comment