Saturday, 13 November 2021

جب کبھی وہ یاس کا پیکر لگے

 جب کبھی وہ یاس کا پیکر لگے

ساری دنیا درد کا منظر لگے

ہر طرف بکھرے سوالوں کا ہجوم

عرصۂ ہستی بھی اک محشر لگے

تذکرہ جب بھی اصولوں کا ہوا

آپ کے بدلے ہوئے تیور لگے

ریزہ ریزہ آنکھ میں چبھتا رہا

دل کے آئینے پہ جب پتھر لگے

بزم میں احوالِ زخمِ دل چھڑا

آپ کے دانتوں تلے کنکر لگے

رات، طوفانی ہوا، بارش کا زور

زندگی اک ناتواں چھپّر لگے

شہرِ جاناں کی عجب حالت ہوئی

اجنبی دیوار، بے حس در لگے

راہ میں دل کا دِیا لے کر چلیں

کیا پتا کس کس جگہ ٹھوکر لگے

اس کی بزمِ ناز کی اک ایک بات

آن انجم یاد کا محور لگے


مشتاق انجم

No comments:

Post a Comment