Monday, 15 November 2021

کھڑکیاں کھول کے کیسی یہ صدائیں آئیں

 کھڑکیاں کھول کے کیسی یہ صدائیں آئیں

یاد یہ کس کی دلانے کو صدائیں آئیں

ذہن کی دھند نے عمروں کو سوالی رکھا

دھند کے پردے سے کتنی ہی شعاعیں آئیں

توڑ کر کون سی زنجیر یہ مجرم آئے

جرم تھا کون سا ان کا جو سزائیں آئیں

میں تجھے بھول کے دنیا سے لپٹ جاتا ہوں

ایسا کرنے سے نہ جینے کی ادائیں آئیں

جب کبھی خواب جزیروں پہ بلایا مجھ کو

خیر مقدم کو مِرے نور فضائیں آئیں

نام اک دل میں دھڑکتا ہے صحیفہ بن کر

اس صحیفے کی حفاظت کو ہوائیں آئیں


عزیز پریہار

No comments:

Post a Comment