Monday, 15 November 2021

شمع ہے تو جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

 شمع ہے تو جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

موم کو پگھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

جس مقام پر تم ہو کل وہاں پہ ہم ہوں گے

وقت کے بدلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

آسمان پر جانا ہے کٹھن بہت، لیکن

پیر کے پھسلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

رات کی حکومت سے تم‌ کبھی نہ گھبرانا

شمس کے نکلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

ٹھوکروں سے ملتا ہے تجربہ نیا ہر دم

مجھ کو پھر سنبھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

غیر کا نہ لے احساں تھام صبر کا دامن

آفتوں کے ٹلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

آتی جاتی سانسوں کا اعتبار کیا کرنا

موت کو نگلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

تم چلے تو جاتے ہو چھوڑ کر مجھے طالب

دل مِرا سنبھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے


متین طالب

No comments:

Post a Comment