شمع ہے تو جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
موم کو پگھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
جس مقام پر تم ہو کل وہاں پہ ہم ہوں گے
وقت کے بدلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
آسمان پر جانا ہے کٹھن بہت، لیکن
پیر کے پھسلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
رات کی حکومت سے تم کبھی نہ گھبرانا
شمس کے نکلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
ٹھوکروں سے ملتا ہے تجربہ نیا ہر دم
مجھ کو پھر سنبھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
غیر کا نہ لے احساں تھام صبر کا دامن
آفتوں کے ٹلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
آتی جاتی سانسوں کا اعتبار کیا کرنا
موت کو نگلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
تم چلے تو جاتے ہو چھوڑ کر مجھے طالب
دل مِرا سنبھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
متین طالب
No comments:
Post a Comment