Sunday, 14 November 2021

ہمیں اب خواب میں جینا پڑے گا

 ہمیں اب خواب میں جینا پڑے گا

یہ سودا تو بہت مہنگا پڑے گا

بدلنا چاہتے ہو رخ ہوا کا؟

ہوا کے ساتھ بھی چلنا پڑے گا

ابھی سے کیا بتائیں دیکھ لینا

کسی دیوار کا جھگڑا پڑے گا

گھروں کو اوڑھ لینے سے بھلا کیا

گھروں سے دور بھی رہنا پڑے گا

قدم جب لڑکھڑائیں گے تمہارے

وہی رستہ تمہیں سیدھا پڑے گا


عزیز پریہار

No comments:

Post a Comment