یار کی محفل سجی مے کی مہک چھانے لگی
ذہن و دل میں یہ کہاں سے روشنی آنے لگی
آ، گلے لگ جا مِرے شمشیر قاتل اس دفعہ
عید کیوں ہر بار میری رائیگاں جانے لگی
تیرا شکوہ ہے حنا ہاتھوں پہ کیوں چڑھتی نہیں
اتنی مدت ہو گئی جب تُو مِرے شانے لگی
دن گزارے تھے یہ کہہ کر اب نہ سوچوں گا اسے
پھر بہارِ عید آئی،۔ ان کی یاد آنے لگی
ایک مدت بعد سرور گلشنِ ہستی میں اب
پھر بہارِ عید آئی،۔ ان کی یاد آنے لگی
سرور نیپالی
No comments:
Post a Comment