Monday, 3 April 2023

دل پہ اک تیر پھر آ لگا دوستو

 دل پہ اک تیر پھر آ لگا دوستو

شکریہ شکریہ شکریہ دوستو

دوستو! دوستی داٸمی چیز تھی

آپ جیسوں نے کیا کر دیا دوستو

صبحِ یاراں نے اتنے مصائب دئیے

رات بھر ہاتھ دل پر رہا دوستو

میں جو ترکِ مراسم پہ روتا رہا

میں تو بالکل بھی ایسا نہ تھا دوستو

پہلے پہلے تعلق کی رعنائیاں

پھر وہی غم وہی حادثہ دوستو

اب میں اپنے ہی سائے سے بیزار ہوں

تخلیہ تخلیہ تخلیہ دوستو

لوگ جیون میں ملتے بچھڑتے رہے

اور میں رہ گیا دیکھتا دوستو

وقتِ مشکل حجابِ توقع اٹھا

دوستو اے میرے بے وفا دوستو

وہ جو اعجاز ارزاں ہوئے آج کل

بیش قیمت تھے کل باخدا دوستو


علی اعجاز تمیمی

No comments:

Post a Comment