عجیب رُت ہے
کسی نے ہم کو گنوا دیا ہے
کِسے پکاریں گے سخت وقتوں کی زد میں آ کر
کہ جس کی سنگت
شکستگی میں بھی پھر سے اٹھنے کا تھی سہارہ
اسی نے ہم کو گرا دیا ہے
جو غم کے دریا میں تھا ہمارا سکوں کنارہ
اسی نے ہم کو بہا دیا ہے
جو اپنے وعدوں میں ساری دنیا سے معتبر تھا
ہمارا عمروں سے ہمسفر تھا
اسی نے رنجِ وداع دیا ہے
کسی نے ہم کو گنوا دیا ہے
عجیب رُت ہے
ارسلان عباس
No comments:
Post a Comment