Monday, 3 April 2023

سمے عجیب سا قصہ سنا رہا ہے ہمیں

 سمے عجیب سا قصہ سنا رہا ہے ہمیں

یہ کس طرح کا سفر پیش آ رہا ہے ہمیں

پرانے وقت میں اب لوٹنا ضروری ہے

وہاں ہے اپنا کوئی جو بلا رہا ہے ہمیں

تمہارا ہجر چلو مانتے ہیں پر دیکھو

تمہارا وصل بھی پاگل بنا رہا ہے ہمیں

ہمارے حال کا اندازہ اس طرح کر لو

ہمارا اپنا ہی گھر کھائے جا رہا ہے ہمیں

ہجوم پاس ہے پر دل کہ لگتا ہی نہیں ہے

یہ تخلیہ ہی دروں سے بجھا رہا ہے ہمیں

خراج مانگتے ہیں لوگ اب محبت کا

خدا بھی کیسے برے دن دکھا رہا ہے ہمیں

کہ جیسے اس کو ضرورت نہیں ہماری اب

وہ ایسے آنکھ سے اپنی بہا رہا ہے ہمیں

ہم آستاں لیے بیٹھے ہیں دل میں ہی شوزب

یہ ان کا فیض ہے جو سب سکھا رہا ہے ہمیں


شوزب حکیم 

No comments:

Post a Comment