Friday, 14 January 2022

کبھی تو سوچنا تم ان اداس آنکھوں کا

کبھی تو سوچنا تم ان اداس آنکھوں کا

یہ رتجگوں میں گھری محو یاس آنکھوں کا

میں گھر گئی تھی کہیں وحشتوں کے جنگل میں

تھا اک ہجوم مِرے آس پاس آنکھوں کا

برہنگی تِرے اندر کہیں پنپتی ہے

لباس ڈھونڈ کوئی بے لباس آنکھوں کا

تمہارے ہجر کا موسم ہی راس آیا مجھے

یہی تھا ایک طبیعت شناس آنکھوں کا

اسی کی نذر سبھی رتجگے سبھی نیندیں

اور اس کی آنکھوں کے نام اقتباس آنکھوں کا

پڑی رہے تِری تصویر سامنے یوں ہی

یہ زر کھلا رہے آنکھوں کے پاس آنکھوں کا

خیال تھا کہ وہ ابر اس طرف سے گزرے گا

سو یہ بھی جاناں تھا وہم و قیاس آنکھوں کا


جاناں ملک

No comments:

Post a Comment