Tuesday, 19 October 2021

غموں کی دھوپ کا جب بھی بیان لکھتا ہوں

 غموں کی دھوپ کا جب بھی بیان لکھتا ہوں

تو زلفِ یار کو میں سائبان لکھتا ہوں

مکین تم ہو جو اس دل کے تو مبارک ہو

تمہارے نام یہ دل کا مکان لکھتا ہوں

جسے خیال کی رفعت بلند کرتی ہے

میں اس زمین کو بھی آسمان لکھتا ہوں

اسی کے درد نے جینا سکھا دیا مجھ کو

ستم شعار کو بھی مہربان لکھتا ہوں

یہی وسیلہ ہی کافی ہے میری بخشش کو

علم کے سائے کو اپنی امان لکھتا ہوں

کرم یہ خالقِ اکبر کا مجھ پہ کم تو نہیں

قلم سے آل محمدﷺ کی شان لکھتا ہوں

جو پتھروں کو تکلم عطا کرے عابد

میں اپنے شعروں میں ایسی زبان لکھتا ہوں


علی عابد

No comments:

Post a Comment