چلو شگفتہ بیانی میں دیکھ لیتے ہیں
اے ظرف تجھ کو گرانی میں دیکھ لیتے ہیں
سر اونچا کر کے بڑوں کو کبھی نہیں دیکھا
ہم آسمان کو پانی میں دیکھ لیتے ہیں
الٰہی ان کی بصیرت ہمیں عطا کر دے
جو ایک قطرہ کو پانی دیکھ لیتے ہیں
وہ پیاس جو کہ نہ بجھ پائے گی قیامت تک
اسے فرات کے پانی میں دیکھ لیتے ہیں
عطا ہوئی ہے نظر ایسی کچھ پرندوں کو
جو اپنا رزق بھی پانی میں دیکھ لیتے ہیں
شرف تو ملتا ہے پھلی نظر میں تقوے کا
بھلے ہی ان کو روانی میں دیکھ لیتے ہیں
بناتا کون ہے کردار آج کل اپنا
یہ لوگ خود کو کہانی میں دیکھ لیتے ہیں
وہ واپسی کے سفر پہ نہیں گئے اکمل
ہم ان کو ان کی نشانی میں دیکھ لیتے ہیں
اکمل امام
No comments:
Post a Comment