مُرجھائے ہوئے پھول ہیں گلدان میں صاحب
گر آپ کہیں پھینک دوں دالان میں صاحب
بل کھاتا ہوا رستہ ہے اور سانس کی تکلیف
گھر اس پہ مِرا گاؤں کے ڈھلوان میں صاحب
اس واسطے حیرت سے اسے دیکھ رہا ہوں
اک پھول کھلا، پھول بھی چٹان میں صاحب
آزاد کریں قید سے قیدی کو وگرنہ
مر جائے گا اک روز وہ زندان میں صاحب
اک روز میں طبلے کے کسی سم پہ گروں گا
ٹوٹے گا رِدھم سانس کا اک آن میں صاحب
احمد عرفان
No comments:
Post a Comment