بتلائے محبت کا کوئی حل اسے کہنا
کٹتا ہی نہیں ہجر میں اک پل اسے کہنا
رہ جاتے ہیں دنیا میں کئی کام ادھورے
ہر شخص کی قسمت میں نہیں کل اسے کہنا
ہم پہلی ملاقات سے اب تک نہیں نکلے
اٹکا تھا گھڑی میں تِرا آنچل اسے کہنا
ہوتے ہیں محبت کے بھرم کے لیے خاموش
سب لوگ نہیں ہوتے ہیں پاگل اسے کہنا
ہیں آج بھی گاؤں میں تِرے حسن کے چرچے
ہوتی ہے تِرے نام پہ ہل چل اسے کہنا
جب دیکھوں تِرے شہر سے آتے ہوئے گاڑی
بڑھ جاتا ہے اشکوں کا تسلسل اسے کہنا
اس بار بھی بچپن کی طرح عید پہ عابد
لاؤں گا گھڑی بیچ کے پائل اسے کہنا
علی عابد
No comments:
Post a Comment