Tuesday, 18 January 2022

بتلائے محبت کا کوئی حل اسے کہنا

بتلائے محبت کا کوئی حل اسے کہنا

کٹتا ہی نہیں ہجر میں اک پل اسے کہنا

رہ جاتے ہیں دنیا میں کئی کام ادھورے

ہر شخص کی قسمت میں نہیں کل اسے کہنا

ہم پہلی ملاقات سے اب تک نہیں نکلے

اٹکا تھا گھڑی میں تِرا آنچل اسے کہنا

ہوتے ہیں محبت کے بھرم کے لیے خاموش

سب لوگ نہیں ہوتے ہیں پاگل اسے کہنا

ہیں آج بھی گاؤں میں تِرے حسن کے چرچے

ہوتی ہے تِرے نام پہ ہل چل اسے کہنا

جب دیکھوں تِرے شہر سے آتے ہوئے گاڑی

بڑھ جاتا ہے اشکوں کا تسلسل اسے کہنا

اس بار بھی بچپن کی طرح عید پہ عابد

لاؤں گا گھڑی بیچ کے پائل اسے کہنا


علی عابد

No comments:

Post a Comment