Tuesday, 18 January 2022

دل کا ڈھول بجاتا ہوں تو بکتا ہوں

دل کا ڈھول بجاتا ہوں تو بِکتا ہوں

خود کو آگ لگاتا ہوں تو بکتا ہوں

میرے اشک سمندر کا سرمایہ ہیں

ساحل پر جب جاتا ہوں، تو بکتا ہوں

میں وہ پیڑ ہوں، اُگتا ہوں تو کٹتا ہوں

کٹ کر پھر اُگ آتا ہوں، تو بکتا ہوں

ایسی شام کو دنیا والے روتے ہیں

جب میں درد مناتا ہوں، تو بکتا ہوں

روؤں تو پانی پڑنے سے بجھتا ہوں

پھر خود کو سلگاتا ہوں، تو بکتا ہوں

پہلے دیواروں سے دل کی کہتا ہوں

پھر کھڑکی پہ آتا ہوں، تو بکتا ہوں

جب جذبے لکھتا ہوں تو ہنس دیتے ہیں

ہاں جب ناچ دکھاتا ہوں تو بکتا ہوں

ایسے آج بغاوت کی ہے خوابوں نے

جیسے میں سو جاتا ہوں، تو بکتا ہوں

میں تو باقی خاصا سستا گوہر ہوں

جب خود کو چمکاتا ہوں، تو بکتا ہوں


وجاہت باقی

No comments:

Post a Comment