Tuesday, 18 January 2022

کہو تو نام میں دے دوں اسے محبت کا

 کہو تو نام میں دے دوں اسے محبت کا

جو اک الاؤ ہے جلتی ہوئی رفاقت کا

جسے بھی دیکھو چلا جا رہا ہے تیزی سے

اگرچہ کام یہاں کچھ نہیں ہے عجلت کا

دکھائی دیتا ہے جو کچھ کہیں وہ خواب نہ ہو

جو سن رہی ہوں وہ دھوکا نہ ہو سماعت کا

یقین کرنے لگے لوگ؛ رُت بدلتی ہے

مگر یہ سچ بھی کرشمہ نہ ہو خطابت کا

سنوارتی رہی گھر کو مگر یہ بھول گئی

کہ مختصر ہے یہ عرصہ یہاں سکونت کا

چلو کہ اس میں بھی اک آدھ کام کر ڈالیں

جو مل گیا ہے یہ لمحہ ذرا سی مہلت کا


فاطمہ حسن

No comments:

Post a Comment