کوئی جو تیری خبر آ کے مہ جبیں دیتا
اسے میں خلد کے باغوں سے کچھ زمیں دیتا
کبھی بھی چاہا نہیں کچھ تِرے سوا لینا
خدا وگرنہ تمہارے سے بہتریں دیتا
کہاں کہاں سے پرندے لپکتے اس کی طرف
صدا وہ اپنے کبوتر کو جب کہیں دیتا
کیا ہے چاند ستاروں پہ اکتفا اس نے
وگرنہ اس کو میں ان سے بھی کچھ حسیں دیتا
ضرورتیں مِری اگلے جہاں سے بڑھ گئی ہیں
خدا نے جو بھی مجھے دینا تھا یہیں دیتا
علی عابد
No comments:
Post a Comment