Wednesday, 19 January 2022

کوئی حرف بغاوت شکوۂ شب کوئی درد بھری آواز نہیں

 کوئی حرف بغاوت شکوۂ شب کوئی درد بھری آواز نہیں

سب گونگے بہرے لب بستہ کوئی جالب فیض فراز نہیں

سب دامن سینہ چاک ہیں چپ اور بے آواز گلی کوچے

پنجروں میں قید پرندوں کی فریاد کی بھی پرواز نہیں

سب بربط و چنگ رباب و نے، میناؤں سے لپٹی حسرت مے 

پھرتے ہیں سبو میں خاک لیے محفل ہے صدائے ساز نہیں

ہم ہجر کے مارے لوگوں کی تقدیر ہے کیا تصویر ہے کیا

کبھی جلوہ آراء شام نہیں، کبھی صبح وصل آغاز نہیں


صدیق منظر

No comments:

Post a Comment