کوئی حرف بغاوت شکوۂ شب کوئی درد بھری آواز نہیں
سب گونگے بہرے لب بستہ کوئی جالب فیض فراز نہیں
سب دامن سینہ چاک ہیں چپ اور بے آواز گلی کوچے
پنجروں میں قید پرندوں کی فریاد کی بھی پرواز نہیں
سب بربط و چنگ رباب و نے، میناؤں سے لپٹی حسرت مے
پھرتے ہیں سبو میں خاک لیے محفل ہے صدائے ساز نہیں
ہم ہجر کے مارے لوگوں کی تقدیر ہے کیا تصویر ہے کیا
کبھی جلوہ آراء شام نہیں، کبھی صبح وصل آغاز نہیں
صدیق منظر
No comments:
Post a Comment