کامنی خوش رہو
میں بھی تنہا تھا تم بھی اکیلی ہی تھی
ہم بگولوں میں الجھے ہوئے
ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہمسفر
ایک دوجے کی باہوں میں آ کر گرے
ایک اور ایک دو ہو گئے
کیا تمہیں یاد ہے
چھوڑو اگنور کر دو پرانی کتھا
اب بگولوں کی زد میں نہیں
ایک دوجے کو تفریق کرنے کا وقت آ گیا
تم جہاں بھی رہو، کامنی! خوش رہو
نوید ملک
No comments:
Post a Comment