Wednesday, 19 January 2022

تم جہاں بھی رہو کامنی خوش رہو

 کامنی خوش رہو


میں بھی تنہا تھا تم بھی اکیلی ہی تھی

ہم بگولوں میں الجھے ہوئے

ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہمسفر

ایک دوجے کی باہوں میں آ کر گرے

ایک اور ایک دو ہو گئے

کیا تمہیں یاد ہے

چھوڑو اگنور کر دو پرانی کتھا

اب بگولوں کی زد میں نہیں

ایک دوجے کو تفریق کرنے کا وقت آ گیا

تم جہاں بھی رہو، کامنی! خوش رہو


نوید ملک

No comments:

Post a Comment