الفت کی بات ہے نہ سیاست کی بات ہے
میں مسکرا رہی ہوں یہ عادت کی بات ہے
تم سب کو دیکھتے ہو جہاں میں مرے سوا
میں تم کو دیکھتی ہوں یہ الفت کی بات ہے
تم نے تو میرے یار بھلا ہی دیا مجھے
میری طرف سے دی گئی مہلت کی بات ہے
وہ جس کو چاہتا ہے بلاتا ہے اپنے گھر
یہ بندگی میں اس کی ہدایت کی بات ہے
امرینہ میرے نام پہ مرتے ہیں کتنے لوگ
زندہ ہوں میں تو یہ مری قسمت کی بات ہے
امرینہ قیصر
No comments:
Post a Comment