Wednesday, 19 January 2022

عشق اپنی نیاز دیتا ہے

 عشق اپنی نیاز دیتا ہے

غم خوشی سے نواز دیتا ہے

موت مانگوں تو وہ خدا مجھ کو

ایک عمرِ دراز دیتا ہے

پہلے خود راز ہونا پڑتا ہے

پھر خدا اپنے راز دیتا ہے

ایک پڑھنا درود کا مجھ کو

زندگی کا جواز دیتا ہے

شعر تیرا ہر اک اویس کئی

پتھروں کو گداز دیتا ہے


اویس رشید

No comments:

Post a Comment