عشق اپنی نیاز دیتا ہے
غم خوشی سے نواز دیتا ہے
موت مانگوں تو وہ خدا مجھ کو
ایک عمرِ دراز دیتا ہے
پہلے خود راز ہونا پڑتا ہے
پھر خدا اپنے راز دیتا ہے
ایک پڑھنا درود کا مجھ کو
زندگی کا جواز دیتا ہے
شعر تیرا ہر اک اویس کئی
پتھروں کو گداز دیتا ہے
اویس رشید
No comments:
Post a Comment