Wednesday, 19 January 2022

وہ پنچھی کب کا اڑ چکا

 پنچھی


وہ وقت تو کب کا بیت چکا

پر درد ابھی بھی ٹھہرا ہے

جو قید تھا دل کے پنجرے میں

وہ شخص تو اب بھی زندہ ہے

وہ پنجرہ تھا اک پنچھی کا

وہ قیدی تھا اک زمانے کا

وہ زمانہ کب کا بیت چکا

وہ پنچھی کب کا اُڑ چکا


عندلیب سحرش

No comments:

Post a Comment