گو کہ وہ میرا یار ہے ہی نہیں
مجھ پہ یہ آشکار ہے ہی نہیں
اس کنارے پہ میں اکیلا ہوں
کوئی دریا کے پار ہے ہی نہیں
خود سے چھُپتا ہُوا کہاں جاؤں
کوئی پربت پہ غار ہے ہی نہیں
تیرا چہرہ نظر میں رہتا ہے
روشنی کا شمار ہے ہی نہیں
کھیل کیسا ہے یہ محبت کا
جیت کے ساتھ ہار ہے ہی نہیں
کیوں ہوا یوں قریب سے گُزری
اس پہ کوئی سوار ہے ہی نہیں
عمر گُزری ہے ساتھ چلتے ہوئے
راستہ غمگُسار ہے ہی نہیں
لمحہ لمحہ سوال کرتا ہے
آئینے کو قرار ہے ہی نہیں
ہم بھی جاتے، مگر کہاں جاتے
خواہشوں کا مزار ہے ہی نہیں
تیرے الفاظ پر بھروسہ ہے
تیرے خنجر کی دھار ہے ہی نہیں
جانے خورشید کس طرح نکلے
وقت کا اعتبار ہے ہی نہیں
سعید اشعر
No comments:
Post a Comment