سر بستہ راز تھا، سرِ بازار کھُل گیا
اس نے کیا کلام تو کردار کھل گیا
گو رکھ رکھاؤ سے ملی ہر بار میں اسے
لیکن وہ میرے سامنے ہر بار کھل گیا
سُن ہو گئی تھی اور اسے سُن رہی تھی میں
ایسے وہ مجھ پہ صاحبِ گُفتار کھل گیا
میں نقدِ جاں گنوا کے بھی خاموش ہوں مگر
ہے کون کون میرا خریدار؟ کھل گیا
کانوں میں گھُل گئی کسی جھرنے کی جلترنگ
آنکھوں کے سامنے مِرے گُلزار کھل گیا
نازک سا ایک جُوڑے میں جوہی کا پھُول تھا
کھُلتا نہ تھا مگر بہ صد اصرار کھل گیا
عائشہ مسعود ملک
No comments:
Post a Comment