Sunday, 14 August 2022

اپنی الجھن کو بڑھانے کی ضرورت کیا ہے

 اپنی الجھن کو بڑھانے کی ضرورت کیا ہے

چھوڑنا ہے تو بہانے کی ضرورت کیا ہے

لگ چکی آگ تو لازم ہے دھواں اٹھے گا

درد کو دل میں چھپانے کی ضرورت کیا ہے

عمر بھر رہنا ہے تعبیر سے گر دور تمہیں

پھر مِرے خواب میں آنے کی ضرورت کیا ہے

اجنبی رنگ چھلکتا ہو اگر آنکھوں سے

ان سے پھر ہاتھ ملانے کی ضرورت کیا ہے

آج بیٹھے ہیں تِرے پاس کئی دوست نئے

اب تجھے دوست پرانے کی ضرورت کیا ہے

ساتھ رہتے ہو، مگر ساتھ نہیں رہتے ہو

ایسے رشتے کو نبھانے کی ضرورت کیا ہے


ندیم گلانی

No comments:

Post a Comment