Sunday, 14 August 2022

جب پتھروں کے شہر میں ہم نے اذان دی

 جب پتھروں کے شہر میں ہم نے اذان دی

اس روز مُورتوں کو خدا نے زبان دی

پھر کیا بچے گا تیری مسیحائی کا بھرم

جب تیرے در پہ میں نے کسی روز جان دی

مجھ کو ملے وہ تیر، شکستہ تھے جن کے پھل

پھر اس پہ مستزاد کہ ٹوٹی کمان دی

مشعل بکف میں سلطنتِ شب میں کیا گیا

میری دُہائی رات نے سات آسمان دی

لے آج میرے خرقۂ صد چاک کا خراج

جا اے امیرِ شہر! کہ جاں تجھ کو دان دی

مجھ کو عطا ہوئے تھے نشاں شرق و غرب کے

پھر اس کے بعد ایک لحد بے نشان دی

تجھ کو طلسمِ ہوشربا سا ملا تھا روپ

مجھ کو بھی اس نے ایک الگ داستان دی

میں تیرا نام لے کے چلا دار کی طرف

یوں مجھ کو تُو نے دولتِ ہر دو جہان دی

میں دیکھتا رہا تھا بہت دیر اک غزل

پھر دل نے مجھ کو ایک غزل ترجمان دی

حماد! شہرِ ظلم کی ہر رِیت ہے عجب

جو فصل جل چکی تھی، اسی کی لگان دی


حماد یونس

No comments:

Post a Comment