شعر میں جسم کی تجرید نہیں کرتا میں
عہدِ سفاک کی تجدید نہیں کرتا میں
حق پرستوں کی جو تردید نہیں کرتا میں
اس لیے جھوٹوں کی تائید نہیں کرتا میں
حسن والوں کو خدا مان کے جو پوجتے ہیں
معذرت! ایسوں کی تقلید نہیں کرتا میں
مانتا ہوں کہ سرابوں میں بسیرا ہے مِرا
سُرمئی شام پہ اب دید نہیں کرتا میں
نرم مٹی سے بناتا ہوں نئے پیکر، اور
خشک ذرات کو خورشید نہیں کرتا میں
شائق سعیدی
No comments:
Post a Comment