کسی محبوب لمحے میں یہ دل گھیرا ہی جاتا ہے
کہیں آئینے جیسا آدمی ٹکرا ہی جاتا ہے
فقط تیری نظر درکار ہے تیرے فقیروں کو
زمانے بھر کی دولت کو یہ دل ٹھکرا ہی جاتا ہے
سدا رحم و کرم پر حادثوں کے زیست ہے اپنی
خزاں کا وار جاں کے باغ کو بکھرا ہی جاتا ہے
نہیں احساس کرتا وہ کبھی اپنے تغافل کا
وہ الفت میں سدا مجرم ہمیں ٹھیرا ہی جاتا ہے
نہ آنکھوں سے بہیں آنسو نہ ہے احساس ہی باقی
زمانے بھر کے غم سہہ کر تو دل پتھرا ہی جاتا ہے
تعلق کا نہ مستقبل ہے کوئی کہہ دیا تم نے
وفا کے پنجرے میں اپنا دل گھبرا ہی جاتا ہے
وہ اتنا لا تعلق بھی نہیں تم سے ذرا سوچو
وہ اکثر جاتے جاتے ہاتھ تو لہرا ہی جاتا ہے
ماورا عنایت
No comments:
Post a Comment