Wednesday, 14 September 2022

کسی محبوب لمحے میں یہ دل گھیرا ہی جاتا ہے

 کسی محبوب لمحے میں یہ دل گھیرا ہی جاتا ہے

کہیں آئینے جیسا آدمی ٹکرا ہی جاتا ہے

فقط تیری نظر درکار ہے تیرے فقیروں کو

زمانے بھر کی دولت کو یہ دل ٹھکرا ہی جاتا ہے

سدا رحم و کرم پر حادثوں کے زیست ہے اپنی

خزاں کا وار جاں کے باغ کو بکھرا ہی جاتا ہے

نہیں احساس کرتا وہ کبھی اپنے تغافل کا

وہ الفت میں سدا مجرم ہمیں ٹھیرا ہی جاتا ہے

نہ آنکھوں سے بہیں آنسو نہ ہے احساس ہی باقی

زمانے بھر کے غم سہہ کر تو دل پتھرا ہی جاتا ہے

تعلق کا نہ مستقبل ہے کوئی کہہ دیا تم نے

وفا کے پنجرے میں اپنا دل گھبرا ہی جاتا ہے

وہ اتنا لا تعلق بھی نہیں تم سے ذرا سوچو

وہ اکثر جاتے جاتے ہاتھ تو لہرا ہی جاتا ہے


ماورا عنایت 

No comments:

Post a Comment