Wednesday, 14 September 2022

سامنے ان کے ہم ایسوں کی حیثیت کیا ہے

 سامنے ان کے ہم ایسوں کی حیثیت کیا ہے

بزمِ خورشید میں تاروں کی ضرورت کیا ہے

ہم کو معلوم کہاں صاحبِ مسند کی خوشی؟

ہم سے پوچھو تو یہ پوچھو غمِ غربت کیا ہے

عشق کی راہ میں کٹتی ہے جو گردن میری

پھر اگر نیزے پہ بولوں بھی حیرت کیا ہے

حیف، بیٹی کے جنم لینے پر افسُردہ ہو

تم کو معلوم نہیں اللہ کی رحمت کیا ہے

ہم نے اک سجدہ کِیا اور کہا کچھ بھی نہیں

پوچھنے والے نے پوچھا تھا محبت کیا ہے

جی سوال آیا سمجھ، موت کا پوچھا یعنی

آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ ہجرت کیا ہے

ایک مُفلس نے وہاں لکھ دیا، روٹی صاحب

ایک دیوار پہ لکھا تھا، ضرورت کیا ہے؟

تُو نبی زادہ ہے اور میں علی سلطان حقیر

میں برابر تِرے بیٹھوں مِری جرأت کیا ہے


علی سلطان 

No comments:

Post a Comment